Kashmir Issue
کشمیر دنیا کی تین ایٹمی طاقتوں کے درمیان میں واقع ایک ایسا متنازعہ علاقہ ہے جس کی تاریخ اس کی عظمت رفتہ کی گواہی دیتی ہے۔ کشمیر کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور صدیوں پہلے کہیں ہمیں کشمیر منی سپر پاور کے روپ میں نظر آتا ہے تو کہیں للتادتیہ اور بڈشاہ کے زمانہ اقتدار کے دنوں میں ریاست کشمیر کی سرحدیں ازبکستان کے موجودہ شہر تاشقند، افغانستان کے موجودہ دارالحکومت کابل سے لے کر ہندوستان اور پاکستان کے کئی علاقوں تک محیط نظر آتی ہیں۔ وقت کی ستم ظریفی دیکھئیے آج وہی کشمیر انھی طاقتوں کے درمیان چکی کے آٹے کی طرح پس رہا ہے۔اگر کشمیریوں کی علم دوستی کی تاریخ کی بات کی جائے تو شاردہ یونیورسٹی کے باقیات اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
آج کشمیر کو دنیا کے پیچیدہ مسئلہ کے نام سے جاننا جاتا ہے۔ یوں تو پچھلے چار سو سالوں سے کشمیری غلامی کے دلدل میں پھنسے آزادی کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے نظر آتے ہیں لیکن گذشتہ سات دہائیوں سے یعنی تقسیم ہند کے بعد سے لےکر کشمیری غلامی کے ایسے چنگل میں پھنسے نظر آتے ہیں جہاں ہزاروں شہادتوں ماؤں بہنوں کی لٹی عزتوں کی قربانيوں کے باوجود آزادی کا یہ سفر طویل سے طویل تر ہوتا نظر آ رہا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔
تقریباً ساڑھے چوراسی ہزار میل پر پھیلی ریاست کشمیر کو تقسیم ہند کے پلان کے مطابق یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرے یعنی ریاست کشمیر کی مرضی تھی کہ یا تو وہ نوزائیدہ ریاستوں ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک سے الحاق کر لے یا پھر آزاد و خودمختار ہی رہے۔آبادی کے تناسب کے لحاظ سے یہ واضح تھا کہ کشمیری الحاق کی صورت میں پاکستان سے الحاق کو ترجیح دیں گے کیونکہ اکثریتی آبادی مسلم تھی یا پھر چونکہ کشمیر میں پچیس پرسنٹ آبادی ہندو، بدھ مت اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بھی مشتمل تھی اس لحاظ سے اس چیز کے بھی قوی امکان تھے کہ کشمیری اپنی آزاد و خودمختار ریاست کے حق میں ووٹ دیں گے اور ساتھ ہی اس وقت کشمیر کی عوام کشمیر کے حکمران مہراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت میں بھی مشغول تھی ان سب کشمکشوں کے بیچ جب قبائلی عوام کشمیر کی مسلم عوام کی مدد کے لئے کشمیر میں بائیس اکتوبر کو داخل ہوئی تو پھر مسئلہ کشمیر نے کچھ ایسا رخ لیا کہ ہر روز یہ معاملہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا گیا۔ آج تقریباً چار ہزار چار سو چوالیس مربع میل پر محیط ایک نیم خودمختار ریاست جسے کشمیر کی آزادی کا بیس کیمپ بھی کہا جاتا ہے آزاد کشمیر کے نام سے پاکستان کے زیر تسلط علاقے میں موجود ہے، تقریباً انتیس ہزار مربع میل کے لگ بھگ علاقہ جو گلگت بلتستان کے نام سے جاننا جاتا ہے اسے پاکستان نے معاہدہ کراچی کے ذریعے اپنے کنڑول میں لے رکھا ہے، تقریباً نو ہزار مربع میل پر محیط کشمیر کا کچھ علاقہ جسے اقصائے چن کے نام سے جاننا جاتا ہے حکومت پاکستان چین کو تحفے میں دے چکی ہے اور باقی علاقہ ہندوستان کے زیر تسلط ہے یوں اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر کے وسائل پر قبضے کی غرض سے کشمیر کی بندر بانٹ ہو چکی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ آئیے اب ان تین ایٹمی طاقت کی حامل ریاستوں کے مسئلہ کشمیر پر موقف اور کردار پر روشنی ڈالتے ہیں۔
سب سے پہلے اگر بات پاکستان کی کی جائے تو پاکستان کا موقف ہے کشمیر اس کی شاہ رگ ہے۔ اور اتفاق سے پاکستان اس شاہ رگ کے بغیر ستر سال سے زائد زندگی بسر کر چکا ہے۔ پاکستان کا چونکہ ہمیشہ سے یہ بھی موقف رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کا وکیل ہے یوں ایک کشمیری ہونے کے ناطے اس وکیل سے دوران وکالت کئی ایسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جنھيں اگر سٹریٹیجک یا ڈپلومیٹک فیلئیر کہا جائے تو کم نہ ہو گا۔مثلاً پاکستان نے مضبوط پوزیشن ہونے کے باوجود ابتداء میں ایک نئے ادارے یعنی یونائیٹڈ نیشن کے کہنے پر جنگی بندی کی ہی کیوں ؟ بھلا شاہ رگ کے حوالے سے بھی کوئی کسی کی سنتا ہے ؟ پاکستان نے معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان اپنے کنڑول میں کیوں لیا جب پاکستان کو یہ معلوم بھی تھا کہ انڈیا اسی معاہدہ کو بنیاد بنا کر کل سارا کشمیر ہڑپ کر سکتا ہے؟ چین ہندوستان کی جنگ کے دوران چین کی آفر کو قبول کرکے پاکستان نے کشمیر کو آزاد کروانے کی کوشش کیوں نہ کی جبکہ اس وقت ہندوستان ایٹمی طاقت کا حامل بھی نہ تھا؟ اگر مسئلہ کشمیر کا حل ملٹری ایکشن نہیں تھا تو پھر جبرالٹر آپریشن کیوں کیا گیا اور اگر جبرالٹر آپریشن شروع کر ہی لیا گیا تھا تو پھر اسے درمیان میں روک کر کیا ان کشمیریوں سے غداری نہیں کی گئی جنھوں نے اس آپریشن میں فورسز کی مدد کی تھی؟ معاہدہ تاشقند میں کشمیر کی بات کیوں نہیں کی گئی؟ شملہ معاہدہ میں ہندوستان کو یہ کیوں کہا گیا ادھر تم ادھر ہم؟ ساتھ ہی شملہ معاہدہ میں یہ شق کیوں شامل کی گئی کہ مسئلہ کشمیر میں اب کسی تیسرے فریق یا ادارے کو ثالثی کا حق نہیں ہو گا؟ جب نوے کی دہائی کے اوائل میں تحریک آزادی کشمیر عروج پر تھی پاکستان میں حکمتوں کو بدلنے کا مقدس کھیل کیوں لیے کھیلا جا رہا تھا؟ یوں اور بھی بہت سی مثالیں ہیں مثلاً کارگل آپریشن فیلئیر، آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے اور کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو اسلامی ممالک تک کی تائید حاصل نہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔
بات اگر ہندوستان کی کی جائے تو ہندوستان کا موقف رہا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور ساتھ ہی ہندوستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مہاراجہ نے کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کی دستاویز پر بھی دستخط کر لیے تھے یوں وہ کشمیر کو اپنا حصہ ڈکلیئر کرتے ہیں۔ ہندوستان کا کردار کشمیر میں شروع دن سے ہی ظالمانہ رہا ہے جموں میں مسلمانوں کے قتل سے لے کر آرٹیکل تین سو ستر کا خاتمہ کرکے کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش تک ہندوستان کے ظلم کی داستانیں پھیلی پڑیں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم اور دیگر تنظیموں کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سیکڑوں رپورٹیں، ہندوستان کی کشمیر میں موجود سات سے آٹھ لاکھ فوج کی بربریت کا ثبوت ہیں۔
چین جو اس مسئلہ کا ایک اور فریق ہے اسکا یہ موقف ہے لداخ کے کئی علاقے تاریخی اتبار سے اسکا حصہ ہیں اور حالیہ دنوں میں چین اور ہندوستان کی افواج میں ہونے والی جھڑپیں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ باقی چین زیادہ تر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی پالیسیوں کا حمایتی رہا ہے یوں چین سی پیک کی کامیابی کے لئے مسئلہ کشمیر میں ڈارکٹ فریق بننے کے بجائے پاکستان کی بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے کی ہرممکنہ مدد کر سکتا ہے۔
جہاں تک مسئلہ کشمیر کے حل کی بات ہے اگر اس لحاظ سے ہندوستان سے کوئی امید باندھی جائے تو یہ احمقانہ سی حرکت ہو گی اور چین کیا کر سکتا ہے وہ پہلے ہی ڈسکس ہو چکا ہے یوں پاکستان ہی ہے جو اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے سوال یہ ہے کہ پاکستان کیا کرے؟ سب سے پہلے تو پاکستان گلگت بلستان کو دوبارہ کشمیر کے حوالے کر دے اور پھر یہاں ایک آزادانہ الیکشن کے ذریعے دونوں کی ایک مشترکہ حکومت بنائی جائے جو بیس کیمپ کی ذمہ داریاں پوری کرے۔ پھر پاکستان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر ایک مریض درر وتکلیف سے چیخ و پکار کر رہا ہو اور اسے بستر علالت پر چھوڑ کر ایک صحت مند انسان کو یہ کہا جائے کہ آپ ڈاکٹر کے پاس جاکر اسی مریض کی طرح چیخ و پکار کرکے اس مریض کی کیفیت بیان کرو یوں ڈاکٹر اس کا علاج کر لے گا تو یہ ممکن نہیں ہے بلکہ مریض کا خود ڈاکٹر کے پاس جانا لازم ہے اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ بیس کیمپ کی قیادت اور قابل لوگوں کو اقوام عالم تک رسائی دلائے اور انھے اپنا کیس خود پیش کرنے دے نہ کہ کشمیریوں کو پیچھے رکھ کر یہ ذمہ داری پاکستان نبائے۔ پاکستان کی قیادت ایک طرف کشمیریوں کی حق خودارادیت کی بات کرتی ہے تو ساتھ اسی جلسے میں قیادت یہ بھی نعارے لگا رہی ہوتی ہے کہ کشمیر بننے گا پاکستان یہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والی بات ہے پاکستان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر وہ کشمیریوں کا مقدمہ خلوص نیت کے ساتھ اور پوری طاقت کے ساتھ لڑ رہا ہے تو خدا تعالیٰ کے اصول کے مطابق آخری فیصلہ پاکستان کے حق میں ہی آئے گا۔اور ساتھ ہی پاکستان شملہ معاہدے سے دستبرداری کا بھی اعلان کرے تاکہ اقوام عالم اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کر پائیں۔ اور سب سے اہم یہ ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے خود مختاری والے آپشن کو بھی بحال کروائے تاکہ پاکستان کا کردار غیرجانبدار اور منصفانہ نظر آئے۔ پاکستان اپنی معاشی پوزیشن مستحکم کرے تاکہ کم سے کم مسلم ملک تو پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
نظریات اختلاف ہو سکتا ہے مگر اخلاقیات کے ساتھ۔
ٹائپنگ کی غلطیوں کے لئے پیشگی معذرت۔
تحریر ثاقب کیانی

ماشاءاللہ محترم ثاقب صاحب آپ کی تحریریں ہمیشہ سے ہی سبق آموز رہی ہیں لیکن آپ نے آج کشمیر کے مسئلے پر جس طرح قلمبند کی ہے شاید ایسے پہلے کبھی پڑھنے کا موقع نہ ملا۔
ReplyDeleteبات یہ ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہمارے پاس بھینس تو دور کی بات ہم تو لاٹھی کے لئے ترستے ہیں۔
Thnx jnb
DeleteBohut khoob.
ReplyDeleteLikin jahaan gilgit baltistan ka taliq ha wahaan ki awaam kashmirio k bit khilaaf hay wo to pakistan k saath rehna chahty hain
Thnx jnb
Deletewell written kiani sb
ReplyDeleteThnx jnb
DeleteSaqib bhai bht zabrdast likha ha aap na. ALLAH pak Kashmir ko azad r Muslim state bnae.
ReplyDeleteThnx jnb ameen
DeleteKashmir ka fasla hona chyea
ReplyDeleteThnx jnb
ReplyDeleteOutclass
ReplyDeleteThnx jnb
DeleteBht ahlaaa newspaper ki try kro agr us ma publish hota ha to ziada behtr ha logo ko aaghaiiii ho
ReplyDeleteG In sha Allah
DeleteWell done Kashmir kay hwalay say Acha knowledge rakhtey ho. Jahan tek Pakistan ka tahluq ha to shro din say hi Kashmirion ki akhlaqi aur diplomatically tor per support ker raha ha aur India shro din say hi zullum wa barbriyat ka muzahira kerta chala aa raha ha aalmi zamir ki khamoshi ki wajah say masala letka hwa ha Allah pak Kashmirion ki Madud Furmay Ameen Well done saqib Acha lekha ha
ReplyDeleteThnx and g asa he ha
Deleteبہترین تحریر لکھی ہے۔ حقائق پر منبنی ہے۔ پر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہر ایک کے اپنے زاتی مفادات جڑےرہیںاس کے ضروری ہےکشمیری قوم خود متحد ہو پہلے اس کےبعد جو سیاسی قیادت ہے ہماری وہ بھی اپنے مفادات کو ترک کر کے ریاست کے لیے اپنا کردار ادا کرے
ReplyDeleteجب قوم متحد ہو گی تو وہ اپنی سیاسی قیادت پر دباؤ ڈالے گی اور نام نہاد وکیل کی وکالت ترک کروائےگی ۔
جی ایسا ہی ہے بہت شکریہ آپکا
ReplyDeleteAchi tehreer h sir. Pakistan sanjeeda nhi h ore agr sanjeeda h to wo sub khud kray jo wo 2sron se expect krta h.
ReplyDeleteG g asa he ha
Delete